تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 2

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾
اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ En
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
En
جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا: ﴿ مِنْ عَلَقٍ خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم خصَّ الإنسان، وذكرَ ابتداءَ خلقِه {من عَلَقٍ}؛ فالذي خلق الإنسان واعتنى بتدبيره لا بدَّ أن يدبِّره بالأمر والنَّهي، وذلك بإرسال الرسل وإنزال الكتب ، ولهذا أتى بعد الأمر بالقراءة بخلقه للإنسان.