تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العلق (96) — آیت 1

اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾
اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے پیدا کیا۔ En
(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
En
پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل علیہ السلام رسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ اِقْ٘رَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه السُّورة أول السُّور القرآنيَّة نزولاً على رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّها نزلت عليه في مبادئ النبوَّة؛ إذ كان لا يدري ما الكتاب ولا الإيمان، فجاءه جبريل عليه [الصلاة و] السلام بالرِّسالة، وأمره أن يقرأ، فامتنع وقال: ما أنا بقارئٍ! فلم يزل به حتى قرأ ؛ فأنزل اللَّه [عليه]: {اقرأ باسمِ ربِّك الذي خَلَقَ}: عموم الخلق.