تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البلد (90) — آیت 17

ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَۃِ ﴿ؕ۱۷﴾
پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔ En
پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے
En
پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا پھر ان لوگوں میں (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے، اس میں ہر واجب یا مستحب قول و فعل داخل ہے۔ ﴿وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر ایک دوسرے کو صبر کرنے کی تلقین کرتے رہے، یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکام کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ ﴿وَتَوَاصَوْا بِالْ٘مَرْحَمَةِ اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے، اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے، ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں، ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے، نیز وہ یہ بھی وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم كان من الذين آمنوا}: وعملوا الصالحات ؛ أي: آمنوا بقلوبهم بما يجب الإيمان به، وعملوا الصالحات بجوارحهم، فدخل في هذا كلُّ قول وفعل واجبٍ أو مستحبٍّ، {وتواصَوْا بالصَّبْرِ}: على طاعة الله وعن معصيته وعلى أقداره المؤلمة؛ بأن يحثَّ بعضهم بعضاً على الانقياد لذلك والإتيان به كاملاً منشرحاً به الصَّدر مطمئنَّةً به النفس، {وتواصَوْا بالمَرْحَمَةِ}: للخلق؛ من إعطاء محتاجهم، وتعليم جاهلهم، والقيام بما يحتاجون إليه من جميع الوجوه، ومساعدتهم على المصالح الدينيَّة والدنيويَّة، وأن يحبَّ لهم ما يحبُّ لنفسه، ويكره لهم ما يكره لنفسه.