تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البلد (90) — آیت 12

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡعَقَبَۃُ ﴿ؕ۱۲﴾
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ مشکل گھاٹی کیا ہے؟ En
اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟
En
اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر گھاٹی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ۰۰ فَكُّ رَقَبَةٍ اور آپ کو کیا معلوم گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن کا چھڑانا۔ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم کی ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔ ﴿اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍ یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، جیسے ﴿یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ یتیم رشتے دار کو۔ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتہ دار ہونا، یہ سب امور اس میں یکجا ہیں ﴿اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ یا مسکین خاکسار کو۔یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّر هذه العقبة بقوله: {فكُّ رقبةٍ}؛ أي: فكُّها من الرقِّ بعتقها أو مساعدتها على أداء كتابتها، ومن باب أولى فكاك الأسير المسلم عند الكفار، {أو إطعامٌ في يوم ذي مَسْغَبَةٍ}؛ أي: مجاعةٍ شديدةٍ؛ بأن يطعم وقت الحاجة أشدَّ الناس حاجةً، {يتيماً ذا مَقْرَبَةٍ}؛ أي: جامعاً بين كونه يتيماً وفقيراً ذا قرابة، {أو مسكيناً ذا مَتْرَبَةٍ}؛ أي: قد لزق بالتراب من الحاجة والضَّرورة.