عنقریب وہ تمھارے لیے اللہ کی قسم کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آئو گے، تاکہ تم ان سے توجہ ہٹا لو۔ سو ان سے بے توجہی کرو، بے شک وہ گندے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کماتے رہے ہیں۔
En
جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو اُن کی طرف التفات نہ کرنا۔ یہ ناپاک ہیں اور جو یہ کام کرتے رہے ہیں اس کے بدلہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
ہاں وه اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جائیں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ وه لوگ بالکل گندے ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے جنہیں وه کیا کرتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں:
(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔
(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔
یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَیَحْلِفُوْنَؔبِاللّٰهِلَكُمْاِذَاانْقَلَبْتُمْاِلَیْهِمْلِتُعْرِضُوْاعَنْهُمْ١ؕفَاَعْرِضُوْاعَنْهُمْ﴾”وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔“ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمْرِجْسٌ﴾”وہ ناپاک ہیں۔“ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے، زجر و توبیخ اور سزا بھی ان کے لیے مفید نہیں ﴿ وَ ﴾”اور“ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ﴿مَاْوٰىهُمْجَهَنَّمُ١ۚجَزَآءًۢبِمَاكَانُوْایَكْ٘سِبُوْنَ ﴾”ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔“
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ یَحْلِفُوْنَؔلَكُمْلِـتَرْضَوْاعَنْهُمْ﴾”وہ قسمیں کھائیں گے تمھارے لیے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ“ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ گویا کہ انھوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں ﴿ فَاِنْتَرْضَوْاعَنْهُمْفَاِنَّاللّٰهَلَایَرْضٰىعَنِالْقَوْمِالْ٘فٰسِقِیْنَ﴾”لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔“ یعنی، اے مومنو! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رضامندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
واعلم أن المسيء المذنب له ثلاثُ حالاتٍ: إما يُقْبَلُ قولُه وعذرُه ظاهراً وباطناً ويُعفى عنه بحيث يبقى كأنه لم يذنبْ. [فهذه الحالة هي المذكورة هنا في حق المنافقين أن عذرهم غير مقبول، وأنه قد تقررت أحوالهم الخبيثة وأعمالهم السيئة]. وإما أن يُعاقبوا بالعقوبة والتَّعزير الفعليِّ على ذنبهم. وإما أن يُعْرَضَ عنهم، ولا يقابَلوا بما فعلوا بالعقوبة الفعليَّة. وهذه الحال الثالثة هي التي أمر الله بها في حقِّ المنافقين، ولهذا قال: {سيحلفون باللهِ لكم إذا انقلبتُم إليهم لتُعْرِضوا عنهم فأعرِضوا عنهم}؛ أي: لا توبِّخوهم ولا تجلِدوهم أو تقتُلوهم. {إنَّهم رجسٌ}؛ أي: إنهم قذرٌ خبثاء، ليسوا بأهل لأن يُبالى بهم، وليس التوبيخ والعقوبة مفيداً فيهم. {و} تكفيهم عقوبة {جهنَّم جزاءً بما كانوا يكسِبون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔