تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 94

یَعۡتَذِرُوۡنَ اِلَیۡکُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَیۡہِمۡ ؕ قُلۡ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکُمۡ قَدۡ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنۡ اَخۡبَارِکُمۡ ؕ وَ سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ ثُمَّ تُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۴﴾
تمھارے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کی طرف واپس آئو گے، کہہ دے عذر مت کرو، ہم ہرگز تمھارا یقین نہ کریں گے، بے شک اللہ ہمیں تمھاری کچھ خبریں بتا چکا ہے، اور عنقریب اللہ تمھارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول بھی، پھر تم ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جائو گے تو وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔ En
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے تم کہنا کہ مت عذر کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا
En
یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے، اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئنده بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیده اور ﻇاہر سب کا جاننے واﻻ ہے پھر وه تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ یَعْتَذِرُوْنَؔ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُ٘لْ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَ٘نْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدْ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوْنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں۔ ﴿ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تخلُّف المنافقين الأغنياء، وأنه لا عذر لهم؛ أخبر أنهم سيعتذرون {إليكم إذا رجعتُم إليهم}: من غزاتكم، {قُلْ} لهم: {لا تعتِذروا لن نؤمنَ لكم}؛ أي: لن نصدِّقَكم في اعتذاركم الكاذب، {قد نبَّأنا الله من أخبارِكم}: وهو الصادق في قيله، فلم يبقَ للاعتذار فائدةٌ؛ لأنهم يعتذِرون بخلاف ما أخبر الله عنهم، ومحالٌ أن يكونوا صادقين فيما يخالِفُ خَبَرَ الله الذي هو أعلى مراتب الصدق. {وسيرى اللهُ عمَلَكم ورسولُه}: في الدُّنيا؛ لأنَّ العمل هو ميزان الصدق من الكذب، وأما مجرَّد الأقوال؛ فلا دلالة فيها على شيء من ذلك، {ثم تُرَدُّون إلى عالم الغيبِ والشهادة}: الذي لا يخفى عليه خافيةٌ، {فينبِّئُكم بما كنتُم تعملون}: من خيرٍ وشرٍّ، ويجازيكم بعدله أو بفضله؛ من غير أن يظلِمَكم مثقالَ ذرَّةٍ.