لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ہمراہ ایمان لائے، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔
En
لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں
لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں ﴿ الرَّسُوْلُ ﴾ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ﴿ وَالَّذِیْنَاٰمَنُوْامَعَهٗجٰهَدُوْابِاَمْوَالِهِمْوَاَنْفُسِهِمْ﴾”اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انھوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔“ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَلَهُمُالْخَیْرٰتُ﴾”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (دنیا و آخرت) کی بے شمار بھلائیاں ہیں۔“﴿ وَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ﴾”اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔“ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: إذا تخلَّف هؤلاء المنافقون عن الجهاد؛ فالله سيُغْني عنهم، ولله عبادٌ وخواصٌّ من خلقِهِ اختصَّهم بفضله يقومون بهذا الأمر، وهم {الرسول}: محمدٌ - صلى الله عليه وسلم -، {والذين آمنوا معه} يجاهدون {بأموالهم وأنفسهم}: غير متثاقلين ولا كَسِلين، بل هم فرحون مستبشرون، فأولئك {لهم الخيراتُ}: الكثيرةُ في الدُّنيا والآخرة. فأولئك {هم المفلحون}: الذين ظَفِروا بأعلى المطالب وأكمل الرغائب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔