تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ رَضُوْابِاَنْیَّكُوْنُوْامَعَالْخَوَالِفِ ﴾”وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ“ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کے ساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلیں۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہ نمائی کرے؟ ﴿وَطُبِـعَعَلٰىقُلُوْبِهِمْ ﴾ یا ”ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔“ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لیے اس صورت حال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال تعالى: {رَضوا بأن يكونوا مع الخوالف}؛ أي: كيف رضوا لأنفسهم أن يكونوا مع النساء المتخلِّفات عن الجهاد؟! هل معهم فقهٌ أو عقلٌ دلَّهم على ذلك أم {طَبَعَ الله على قلوبهم}؟! فلا تعي الخير ولا يكونُ فيها إرادةٌ لفعل ما فيه الخير والفلاح؛ فهم لا يفقهون مصالحهم؛ فلو فقهوا حقيقة الفقه؛ لم يرضَوْا لأنفُسِهم بهذه الحال التي تحطُّهم عن منازل الرجال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔