تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 85

وَ لَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور تجھے ان کے اموال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں، اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ En
ان کے اولاد اور مال سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں
En
آپ کو ان کے مال واوﻻد کچھ بھی بھلے نہ لگیں! اللہ کی چاہت یہی ہے کہ انہیں ان چیزوں سے دنیوی سزا دے اور یہ اپنی جانیں نکلنے تک کافر ہی رہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور اولاد سے نواز رکھا ہے اس سے دھوکہ نہ کھائیے کیونکہ یہ مال اور اولاد ان کی تکریم کے لیے نہیں، یہ ان کی تحقیر اور اہانت کے لیے ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب میں رکھے پس وہ اس کے حصول کے پیچھے لگے رہتے ہیں اس کے زوال سے خائف رہتے ہیں اور وہ اس مال سے لطف نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ مال کے حصول میں تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے رہتے ہیں، مال اور اولاد ان کو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ ﴿ وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں مال اور اولاد کی محبت نے ان سے ہر چیز سلب کر لی، ان کو موت نے آلیا تو ان کے دل ابھی تک دنیا سے چمٹے ہوئے تھے اور ان کے ذہن ابھی تک اس کے لیے سرگرم تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لا تغترَّ بما أعطاهم الله في الدُّنيا من الأموال والأولاد؛ فليس ذلك لكرامتهم عليه، وإنَّما ذلك إهانة منه لهم. {يريد الله أن يعذِّبهم بها في الدنيا}: فيتعبون في تحصيلها، ويخافون من زوالها، ولا يتهنَّون بها، بل لا يزالون يعانون الشدائد والمشاقَّ فيها، وتُلهيهم عن الله والدار الآخرة، حتى ينتقلوا من الدنيا، {وتزهقَ أنفسُهم وهم كافرون}: قد سَلَبَهم حبُّها عن كلِّ شيء، فماتوا وقلوبهم بها متعلِّقة وأفئدتهم عليها متحرِّقة.