اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس کا کبھی جنازہ نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا، بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ نافرمان تھے۔
En
اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)
ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار بے اطاعت رہے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَاتُصَلِّعَلٰۤىاَحَدٍمِّؔنْهُمْمَّؔاتَ ﴾”اور آپ نہ نماز پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مر جائے“ منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے ﴿ وَّلَاتَقُمْعَلٰىقَبْرِهٖ﴾”اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر“ دفن کرنے کے بعد تاکہ آپ اس کے حق میں دعا کریں کیونکہ ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی شفاعت ہے اور شفاعت ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ﴿ اِنَّهُمْكَفَرُوْابِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘وَمَاتُوْاوَهُمْفٰسِقُوْنَ ﴾”بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ مرے نافرمان“ اور جو کافر ہے اور کفر ہی کی حالت میں مر گیا تو کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اس کے کام نہ آئے گی۔ اس آیت کریمہ میں دوسروں کے لیے عبرت اور زجر و توبیخ ہے۔ اسی طرح ہر اس شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جس کا کفر اور نفاق معلوم ہو۔
نیز آیت کریمہ میں اہل ایمان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا مانگنے کی مشروعیت کی دلیل ہے جیسا کہ اہل ایمان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کیونکہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ تقیید دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے بارے میں یہ چیز متحقق اور جائز ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {ولا تصلِّ على أحدٍ منهم مات}: من المنافقين، {ولا تَقُمْ على قبرِهِ}: بعد الدفن لتدعو له؛ فإنَّ صلاته ووقوفه على قبورهم شفاعةٌ منه لهم، وهم لا تنفع فيهم الشفاعة، {إنَّهم كفروا بالله ورسولِهِ وماتوا وهم فاسقون}: ومن كان كافراً ومات على ذلك؛ فما تنفعُه شفاعةُ الشافعين، وفي ذلك عبرةٌ لغيرهم وزجرٌ ونَكالٌ لهم، وهكذا كلُّ من عُلم منه الكفر والنِّفاق؛ فإنَّه لا يصلَّى عليه.
وفي هذه الآية دليلٌ على مشروعيَّة الصلاة على المؤمنين والوقوف عند قبورِهم للدُّعاء لهم كما كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - يفعل ذلك في المؤمنين؛ فإنَّ تقييد النهي بالمنافقين يدلُّ على أنه قد كان متقرراً في المؤمنين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔