تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 8

کَیۡفَ وَ اِنۡ یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ لَا یَرۡقُبُوۡا فِیۡکُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً ؕ یُرۡضُوۡنَکُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ تَاۡبٰی قُلُوۡبُہُمۡ ۚ وَ اَکۡثَرُہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾
کیسے ممکن ہے جب کہ وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمھارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا، تمھیں اپنے مونہوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان کے اکثر نافرمان ہیں۔ En
(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو) قبول نہیں کرتے۔ اور ان میں اکثر نافرمان ہیں
En
ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہدوپیمان کا، اپنی زبانوں سے تو تمہیں پرچا رہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے ان میں سے اکثر تو فاسق ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ كَیْفَ کیسے یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنْ یَّ٘ظْ٘هَرُوْا عَلَیْكُمْ کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿یُرْضُوْنَؔكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں۔ ﴿وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {كيف}: يكون للمشركين عند الله عهدٌ وميثاقٌ. {و}: الحال أنَّهم {إن يظهروا عليكم}: بالقدرة والسلطة لا يرحموكم. و {لا يرقبوا فيكم إلا ولا ذِمَّة}؛ أي: لا ذمة ولا قرابة، ولا يخافون الله فيكم، بل يسومونكم سوء العذاب؛ فهذه حالكم معهم لو ظهروا، ولا يغرَّنَّكم منهم ما يعاملونكم به وقت الخوف منكم؛ فإنهم {يُرضونكم بأفواهِهِم وتأبى قلوبُهم}: الميل والمحبَّة لكم، بل هم الأعداء حقًّا، المبغضون لكم صدقاً. {وأكثرهم فاسقون}: لا ديانة لهم ولا مروءة.