ان مشرکوں کا اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ممکن ہے، سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا۔ سو جب تک وہ تمھارے لیے پوری طرح قائم رہیں تو تم ان کے لیے پوری طرح قائم رہو۔ بے شک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
En
بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے
مشرکوں کے لئے عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے ره سکتا ہے سوائے ان کے جن سے تم نے عہد وپیمان مسجد حرام کے پاس کیا ہے، جب تک وه لوگ تم سے معاہده نبھائیں تم بھی ان سے وفاداری کرو، اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَیْفَیَكُوْنُلِلْ٘مُشْرِكِیْنَ۠عَهْدٌعِنْدَاللّٰهِوَعِنْدَرَسُوْلِهٖۤ ﴾”کیوں کر ہو مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک“ کیا انھوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کو اذیت دینی چھوڑ دی ہے؟.... (بلکہ) انھوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی.... کیا انھوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿ اِلَّاالَّذِیْنَعٰهَدْتُّمْ ﴾”سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا“ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿ عِنْدَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ﴾”مسجد حرام کے پاس“ پس اس عہد میں .... خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر... ان کے لیے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿ فَمَااسْتَقَامُوْالَكُمْفَاسْتَقِیْمُوْا۠لَهُمْاِنَّاللّٰہَیُحِبُّالْمُتَّقِیْنَ﴾”پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا بيانٌ للحكمة الموجبة لأن يتبرَّأ الله ورسوله من المشركين، فقال: {كيف يكون للمشركين عهدٌ عند الله وعند رسوله}: هل قاموا بواجب الإيمان؟ أم تركوا رسول الله والمؤمنين من أذيتهم؟ أَمَا حاربوا الحقَّ ونصروا الباطل؟! أَمَا سَعَوْا في الأرض فساداً؟! فيحقُّ لهم أن يتبرَّأ الله منهم، وأن لا يكون لهم عهدٌ عنده ولا عند رسوله. {إلَّا الذين عاهدتم}: من المشركين {عند المسجد الحرام}: فإنَّ لهم في العهد ـ وخصوصاً في هذا المكان الفاضل ـ حرمة أوجب أن يراعوا فيها، {فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم إن الله يحبُ المتَّقين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔