اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ موڑو تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور جنھوں نے کفر کیا انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔
En
اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے۔ اور کافروں کو دکھ اور مار کی خبر پہنچا دیجئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنْتُبْتُمْفَهُوَخَیْرٌلَّـكُمْ١ۚوَاِنْتَوَلَّیْتُمْفَاعْلَمُوْۤااَنَّـكُمْغَیْرُمُعْجِزِیاللّٰهِ﴾”پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے“ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِالَّذِیْنَكَفَرُوْابِعَذَابٍاَلِیْمٍ ﴾”اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔“ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا ما وعد الله به المؤمنين من نصر دينه وإعلاء كلمته وخذلان أعدائهم من المشركين الذين أخرجوا الرسول ومَنْ معه من مكة من بيت الله الحرام وأجلَوْهم مما لهم التسلُّط عليه من أرض الحجاز؛ نصر اللهُ رسولَه والمؤمنين حتى افتتح مكة وأذلَّ المشركين وصار للمؤمنين الحكمُ والغَلَبَةُ على تلك الديار، فأمر النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - مؤذِّنه أن يؤذِّن يوم الحج الأكبر، وهو يوم النحر، وقت اجتماع الناس مسلمهم وكافرهم من جميع جزيرة العرب: أن يؤذِّن بأنَّ الله بريءٌ ورسوله من المشركين؛ فليس لهم عنده عهدٌ وميثاقٌ؛ فأينما وُجِدوا قُتِلوا، وقيل لهم: لا تقربوا المسجد الحرام بعد عامكم هذا! وكان ذلك سنة تسع من الهجرة، وحجَّ بالناس أبو بكر الصديق رضي الله عنه، وأذَّن ببراءة يوم النحر ابنُ عمِّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - علي بن أبي طالب رضي الله عنه.
ثم رغَّب تعالى المشركين بالتوبة ورهَّبهم من الاستمرار على الشرك، فقال: {فإن تُبْتُم فهو خيرٌ لكم وإن تولَّيْتم فاعلموا أنَّكم غير معجزي الله}؛ أي: فائتيه، بل أنتم في قبضته، قادر أن يسلط عليكم عباده المؤمنين. {وبشر الذين كفروا بعذاب أليم}؛ أي: مؤلم مفظع في الدنيا بالقتل والأسر والجلاء وفي الآخرة بالنار وبئس القرار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔