تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 120

مَا کَانَ لِاَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ وَ مَنۡ حَوۡلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمۡ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ لَا یُصِیۡبُہُمۡ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخۡمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا یَّغِیۡظُ الۡکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
مدینہ والوں کا اور ان کے ارد گرد جو بدوی ہیں، ان کا حق نہ تھا کہ وہ رسول اللہ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اس کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے۔ یہ اس لیے کہ وہ، اللہ کے راستے میں انھیں نہ کوئی پیاس پہنچتی ہے اور نہ کوئی تکان اور نہ کوئی بھوک اور نہ کسی ایسی جگہ پر قدم رکھتے ہیں جو کافروں کو غصہ دلائے اور نہ کسی دشمن سے کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں، مگر اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔ یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ En
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
En
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے ره جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیﻆ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے اردگرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انھوں نے اپنے اسلام کو صحیح کر لیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿ وَلَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿ عَنْ نَّفْسِهٖ رسول کی جان سے زیادہ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں بلکہ اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ یہ اس واسطے کہ وہ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت یعنی تھکان اور مشقت ﴿ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں۔ ﴿ وَلَا یَطَـُٔوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے﴿ وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّـیْلًا اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز، مثلاً: لشکر یا سریہ کے ذریعے سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى حاثًّا لأهل المدينة المنوَّرة من المهاجرين والأنصار ومَنْ حولَها من الأعراب الذين أسلموا فَحَسُنَ إسلامهم: {ما كان لأهل المدينة ومَنْ حولَهم من الأعراب أن يتخَلَّفوا عن رسول الله}؛ أي: ما ينبغي لهم ذلك ولا يَليق بأحوالهم. {ولا يرغَبوا بأنفسِهِم}: في بقائها وراحتها، وسكونه {عن نفسه}: الكريمة الزكيَّة، بل النبيُّ أولى بالمؤمنين من أنفسهم؛ فعلى كلِّ مسلم أن يفدي النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - بنفسه ويقدِّمَه عليها؛ فعلامة تعظيم الرسول ومحبَّته والإيمان التامِّ به أن لا يتخلَّفوا عنه. ثم ذكر الثواب الحامل على الخروج، فقال: {ذلك بأنَّهم}؛ أي: المجاهدين في سبيل الله، {لا يصيبُهم ظمأٌ ولا نَصَبٌ}؛ أي: تعبٌ ومشقَّة، {ولا مَخْمَصَةٌ في سبيل الله}؛ أي: مجاعةٌ، {ولا يطؤونَ موطئاً يَغيظُ الكفارَ}: من الخَوْضِ لديارهم والاستيلاء على أوطانهم {ولا ينالون من عَدُوٍّ نَيْلاً}: كالظَّفَر بجيش أو سريَّة أو الغنيمة لمال، {إلَّا كُتِبَ لهم به عملٌ صالحٌ}: لأنَّ هذه آثار ناشئةٌ عن أعمالهم. {إنَّ الله لا يُضيعُ أجرَ المحسنين}: الذين أحسنوا في مبادرتهم إلى أمر الله وقيامهم بما عليهم من حقِّه وحقِّ خلقه؛ فهذه الأعمالُ آثارٌ من آثار عملهم.