تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا يُصِيْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ …: ” ظَمَاٌ “} پیاس، {” نَصَبٌ “} تھکاوٹ، مشقت، محنت۔ {” مَخْمَصَةٌ “} سخت بھوک جس میں پیٹ ساتھ لگ جائے، جس طرح پاؤں کا تلوا ({اَخْمَصُ}) ہوتا ہے۔ {” وَطِئَ يَطَأُ “ مَوْطِئًا} (ع)“ ظرف ہے، روندنے، قدم رکھنے کی جگہ۔ {”غَاظَ يَغِيْظُ“} غصہ دلانا، یعنی جن راستوں، پہاڑیوں، بستیوں، زمینوں، مکانوں اور کھیتوں وغیرہ پر ان کے قدم رکھنے سے یا ان کے گھوڑوں اور دوسری سواریوں کے انھیں روندتے ہوئے گزرنے سے کفار کے دلوں میں غصہ اور جلن پیدا ہو اور وہ ہراساں اور خوف زدہ ہوں۔ (ابن کثیر) {” وَ لَا يَنَالُوْنَ “ ”نَالَ يَنَالُ“} کا لفظی معنی لینا، حاصل کرنا ہے، یعنی مسلمان دشمن کی کوئی زمین یا شہر فتح کریں، یا انھیں قتل یا قید کریں، یا مال غنیمت حاصل کریں، یا انھیں کوئی نقصان پہنچائیں، غرض ان سے حاصل ہونے والی ہر کامیابی اور ہر نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا اجر انھیں ضرور ملے گا، کیونکہ ان کے یہ تمام اعمال اللہ کی خاطر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری میں ہیں اور اسی کا نام احسان اور نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[137] یعنی جہاد کے سفر میں مجاہد کے ہر ایک فعل کے بدلے ایک عمل صالح اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیا جاتا ہے خواہ یہ فعل غیر اختیاری ہو۔ جیسے بھوک پیاس کو برداشت کرنا یا تھکاوٹ یا کوئی ایسی تکلیف اسے اس راہ میں پیش آرہی ہو یہ سب اس کے صالح اعمال میں شمار ہوں گے اور خواہ یہ فعل اختیاری ہوں جیسے سفر طے کرنا، دشمن سے کوئی علاقہ چھیننا یا اس سے جنگ کر کے کامیابی حاصل کرنا، ان تمام تر کاموں کا اللہ کے ہاں انہیں اجر ملے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہدین کو ان کی پیاس پر، تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔ ۱؎ [18-الکھف:30]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى حاثًّا لأهل المدينة المنوَّرة من المهاجرين والأنصار ومَنْ حولَها من الأعراب الذين أسلموا فَحَسُنَ إسلامهم: {ما كان لأهل المدينة ومَنْ حولَهم من الأعراب أن يتخَلَّفوا عن رسول الله}؛ أي: ما ينبغي لهم ذلك ولا يَليق بأحوالهم. {ولا يرغَبوا بأنفسِهِم}: في بقائها وراحتها، وسكونه {عن نفسه}: الكريمة الزكيَّة، بل النبيُّ أولى بالمؤمنين من أنفسهم؛ فعلى كلِّ مسلم أن يفدي النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - بنفسه ويقدِّمَه عليها؛ فعلامة تعظيم الرسول ومحبَّته والإيمان التامِّ به أن لا يتخلَّفوا عنه. ثم ذكر الثواب الحامل على الخروج، فقال: {ذلك بأنَّهم}؛ أي: المجاهدين في سبيل الله، {لا يصيبُهم ظمأٌ ولا نَصَبٌ}؛ أي: تعبٌ ومشقَّة، {ولا مَخْمَصَةٌ في سبيل الله}؛ أي: مجاعةٌ، {ولا يطؤونَ موطئاً يَغيظُ الكفارَ}: من الخَوْضِ لديارهم والاستيلاء على أوطانهم {ولا ينالون من عَدُوٍّ نَيْلاً}: كالظَّفَر بجيش أو سريَّة أو الغنيمة لمال، {إلَّا كُتِبَ لهم به عملٌ صالحٌ}: لأنَّ هذه آثار ناشئةٌ عن أعمالهم. {إنَّ الله لا يُضيعُ أجرَ المحسنين}: الذين أحسنوا في مبادرتهم إلى أمر الله وقيامهم بما عليهم من حقِّه وحقِّ خلقه؛ فهذه الأعمالُ آثارٌ من آثار عملهم.