تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 116

اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۱۶﴾
بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور تمھارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔ En
خدا ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگانی بخشتا ہے (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے
En
بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے، اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یار ہے اور نہ کوئی مدد گار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِیْرٍ اور نہ کوئی مددگار تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الله له ملك السمواتِ والأرض يُحيي ويُميتُ}؛ أي: هو المالك لذلك، المدبِّر لعباده بالإحياء والإماتة وأنواع التدابير الإلهيَّة؛ فإذا كان لا يُخِلُّ بتدبيره القدريِّ؛ فكيف يُخِلُّ بتدبيره الدينيِّ المتعلِّق بإلهيَّته ويترك عبادَه سدى مهمَلين أو يدعُهم ضالِّين جاهلين وهو أعظم تولِّيه لعبادِهِ؟! فلهذا قال: {وما لَكُم من دونِ الله من وليٍّ ولا نصيرٍ}؛ أي: وليٍّ يتولاَّكم بجلب المنافع لكم أو نصيرٍ يدفع عنكم المضارَّ.