اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ کسی قوم کو اس کے بعد گمراہ کر دے کہ انھیں ہدایت دے چکا ہو ، یہاں تک کہ ان کے لیے وہ چیزیں واضح کر دے جن سے وہ بچیں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
En
اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کر کے بعد میں گمراه کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وه بچیں بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَاكَانَاللّٰهُلِیُضِلَّقَوْمًۢابَعْدَاِذْهَدٰؔىهُمْحَتّٰىیُبَیِّنَلَهُمْمَّایَتَّقُوْنَ﴾”اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں۔“ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَبِكُ٘لِّشَیْءٍعَلِیْمٌ﴾”بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔“ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: أن الله تعالى إذا مَنَّ على قوم بالهداية وأمرهم بسلوك الصراط المستقيم؛ فإنه تعالى يتمِّم عليهم إحسانه، ويبيِّن لهم جميع ما يحتاجون إليه وتدعو إليه ضرورتُهم؛ فلا يتركُهم ضالِّين جاهلين بأمور دينهم. ففي هذا دليلٌ على كمال رحمته، وأن شريعته وافيةٌ بجميع ما يحتاجُه العبادُ في أصول الدين وفروعه. ويُحتمل أنَّ المراد بذلك: {وما كان الله لِيُضِلَّ قوماً بعد إذ هَداهم حتَّى يُبَيِّنَ لهم ما يتَّقونَ}: فإذا بيَّن لهم ما يتَّقون، فلم ينقادوا له؛ عاقبهم بالإضلال جزاءً لهم على ردِّهم الحقَّ المبينَ، والأول أولى. {إنَّ الله بكلِّ شيءٍ عليم}: فلكمال علمِهِ وعمومه علَّمكم ما لم تكونوا تعلمونَ، وبيَّن لكم ما به تنتفعون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔