اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔
En
پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں
پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وه رشتہدار ہی ہوں اس امر کے ﻇاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنْیَّسْتَغْفِرُوْا۠لِلْ٘مُشْرِكِیْنَ۠﴾”کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔“﴿ وَلَوْكَانُوْۤااُولِیْقُ٘رْبٰىمِنْۢبَعْدِمَاتَبَیَّنَلَهُمْاَنَّهُمْاَصْحٰؔبُالْجَحِیْمِ﴾”اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں “ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: ما يليق ولا يَحْسُنُ للنبيِّ وللمؤمنين به، {أن يستغفِروا للمشركين}؛ أي: لمن كفر به وعبد معه غيره، {ولو كانوا أولي قُربى من بعدِ ما تبيَّن لهم أنهم أصحابُ الجحيم}: فإنَّ الاستغفار لهم في هذه الحال غلطٌ غير مفيد؛ فلا يليقُ بالنبيِّ والمؤمنين؛ لأنَّهم إذا ماتوا على الشرك أو عُلِمَ أنهم يموتون عليه؛ فقد حقَّت عليهم كلمة العذاب، ووجب عليهم الخلودُ في النار، ولم تنفعْ فيهم شفاعةُ الشافعين ولا استغفارُ المستغفرين. وأيضاً؛ فإنَّ النبيَّ والذين آمنوا معه عليهم أن يوافقوا ربَّهم في رضاه وغضبه، ويوالوا مَنْ والاه الله، ويُعادوا من عاداه الله، والاستغفار منهم لمن تبيَّن أنه من أصحاب النار منافٍ لذلك مناقضٌ له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔