تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التوبة (9) — آیت 112

اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
(وہ مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اللہ کی راہ میں) سفر کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ان مومنوں کو خوش خبری دے دے۔ En
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو
En
وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلتَّآىِٕبُوْنَ توبہ کرنے والے یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں ﴿الْعٰبِدُوْنَ عبادت کرنے والے جو اللہ تعالیٰ کے لیے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں، ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ﴿الْحٰؔمِدُوْنَ حمد کرنے والے جو رنج و راحت، تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اعتراف کرتے رہتے ہیں۔ دن رات ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی مدح و ثنا میں مصروف رہتے ہیں۔ ﴿السَّؔآىِٕحُوْنَ۠ سیاحت کرنے والے سیاحت کی تفسیر روزوں سے کی گئی ہے یا طلب علم کے لیے سفر کرنے سے کی گئی ہے اور سیاحت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت اور اس کی طرف دائمی انابت میں قلب کی سیاحت سے کی گئی ہے۔ مگر اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ سیاحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے حج، عمرہ، جہاد، طلب علم اور اقارب سے ملنے کے لیے سفر کرنا ہے۔ ﴿ الرّٰؔكِعُوْنَ السّٰؔجِدُوْنَ رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے یعنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں جو رکوع و سجود پر مشتمل ہے۔ ﴿ الْاٰمِرُوْنَ بِالْ٘مَعْرُوْفِ نیک بات کا حکم دینے والے ہیں اس میں تمام واجبات و مستحبات داخل ہیں ﴿ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْؔكَرِ بری بات سے روکنے والے ہیں۔ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔ ﴿ وَالْحٰؔفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حدود نازل فرمائی ہیں، یعنی اوامر و نواہی اور احکام میں کیا چیز داخل ہے اور کیا چیز داخل نہیں ہے، ان کا علم حاصل کر کے ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور ترکاً اور فعلاً ان کا التزام کرتے ہیں۔
﴿ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ اور مومنوں کو خوش خبری سنا دیجیے یہاں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے کس چیز کی خوشخبری ہے تاکہ یہ خوشخبری دین و دنیا اور آخرت کے ثواب کو شامل ہو جو ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ یہ خوشخبری ہر مومن کے لیے ہے۔ رہی اس خوشخبری کی مقدار اور اس کا وصف تو اہل ایمان کے احوال، ان کے ایمان کی قوت، ضعف اور اس کے تقاضے پر عمل کے مطابق ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كأنه قيل: من هم المؤمنون الذين لهم البشارةُ من الله بدخول الجنات ونَيْل الكرامات؟ فقال: هم: {التائبون}؛ أي: الملازمون للتوبة في جميع الأوقات عن جميع السيئات. {العابدونَ}؛ أي: المتَّصفون بالعبوديَّة لله والاستمرار على طاعته من أداء الواجبات والمستحبَّات في كل وقتٍ؛ فبذلك يكون العبد من العابدين. {الحامدون}: لله في السرَّاء والضرَّاء واليسر والعسر، المعترفون بما لله عليهم من النعم الظاهرة والباطنة، المثنون على الله بذكرها وبذكره في آناء الليل وآناء النهار. {السائحون}: فسِّرت السياحة بالصيام، أو السياحة في طلب العلم، وفسِّرت بسياحة القلب في معرفة الله ومحبته والإنابة إليه على الدوام، والصحيح أنَّ المرادَ بالسياحة السفرُ في القُرُبات؛ كالحجِّ والعمرة والجهاد وطلب العلم وصلة الأقارب ونحو ذلك. {الراكعون الساجدون}؛ أي: المكثرون من الصلاة، المشتملة على الركوع والسجود. {الآمرون بالمعروف}: ويدخل فيه جميع الواجباتِ والمستحبَّات. {والناهون عن المنكر}: وهي جميع ما نهى الله ورسوله عنه. {والحافظون لحدود الله}: بتعلُّمهم حدودَ ما أنزل الله على رسوله، وما يدخُلُ في الأوامر والنواهي والأحكام، وما لا يدخل، الملازمون لها فعلاً وتركاً. {وبشِّر المؤمنين}: لم يذكُرْ ما يبشِّرهم به؛ ليعمَّ جميع ما رتَّب على الإيمان من ثواب الدُّنيا والدين والآخرة؛ فالبشارةُ متناولةٌ لكلِّ مؤمن، وأما مقدارُها وصفتُها؛ فإنَّها بحسب حال المؤمنين وإيمانهم قوةً وضعفاً وعملاً بمقتضاه.