تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا:﴿ یٰۤاَیَّتُهَاالنَّ٘فْ٘سُالْمُطْمَىِٕنَّةُ﴾ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارْجِعِیْۤاِلٰىرَبِّكِ﴾”اپنے رب کی طرف لوٹ چل“ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِیَةًمَّرْضِیَّةً﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادْخُ٘لِیْفِیْعِبٰؔدِیْۙ۰۰وَادْخُ٘لِیْجَنَّتِیْ﴾”پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔“ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأمَّا مَن آمن بالله واطمأنَّ به وصدَّق رسله؛ فيقال له: {يا أيَّتها النفسُ المطمئنَّةُ}: إلى ذِكْرِ الله، الساكنة إلى حبِّه ، التي قرَّتْ عينُها بالله، {ارجِعي إلى ربِّك}: الذي ربَّاك بنعمته، [وأسدى عليك من إحسانه ما صرت به من أوليائه وأحبابه] {راضيةً مَرْضِيَّةً}؛ أي: راضيةً عن الله وعن ما أكرمها به من الثواب، والله قد رضي عنها، {فادْخُلي في عبادي. وادْخُلي جنَّتي}: وهذا تخاطَبُ به الرُّوح يوم القيامةِ، وتخاطَبُ به وقتَ السياق والموت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔