ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفجر (89) — آیت 27

یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ﴿٭ۖ۲۷﴾
اے اطمینان والی جان ! En
اے اطمینان پانے والی روح!
En
اے اطمینان والی روح En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27){ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ: النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ } اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ اے اطمینان [19] پانے والی روح
[19] ﴿نفس مطمئنه﴾ کیا ہے؟
اس کی وضاحت کے لیے سورۃ القیامۃ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 2 ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اسی پر مطمئن ہوا اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا:﴿ یٰۤاَیَّتُهَا النَّ٘فْ٘سُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس! جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ ﴿ ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ اپنے رب کی طرف لوٹ چل جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے تیری نشوونما کی ﴿ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔ ﴿فَادْخُ٘لِیْ فِیْ عِبٰؔدِیْۙ۰۰ وَادْخُ٘لِیْ جَنَّتِیْ پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأمَّا مَن آمن بالله واطمأنَّ به وصدَّق رسله؛ فيقال له: {يا أيَّتها النفسُ المطمئنَّةُ}: إلى ذِكْرِ الله، الساكنة إلى حبِّه ، التي قرَّتْ عينُها بالله، {ارجِعي إلى ربِّك}: الذي ربَّاك بنعمته، [وأسدى عليك من إحسانه ما صرت به من أوليائه وأحبابه] {راضيةً مَرْضِيَّةً}؛ أي: راضيةً عن الله وعن ما أكرمها به من الثواب، والله قد رضي عنها، {فادْخُلي في عبادي. وادْخُلي جنَّتي}: وهذا تخاطَبُ به الرُّوح يوم القيامةِ، وتخاطَبُ به وقتَ السياق والموت.