تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمْاَجْرٌغَیْرُمَمْنُوْنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فهذه حال أكثر الناس؛ التكذيب بالقرآن، وعدم الإيمان به. ومن الناس فريقٌ هداهم الله فآمنوا بالله وقبلوا ما جاءتهم به الرُّسُل، فَـ {آمنوا وعملوا الصالحات}: فهؤلاء {لهم أجرٌ غير ممنونٍ}؛ أي: غير مقطوع، بل هو أجرٌ دائمٌ ممَّا لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطرَ على قلبِ بشرٍ. والحمد لله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔