تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المطففين (83) — آیت 18

کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ ﴿ؕ۱۸﴾
ہرگز نہیں، بے شک نیک لوگوں کا اعمال نامہ یقینا بہت ہی اونچے لوگوں کے دفتر میں ہے ۔ En
(یہ بھی) سن رکھو کہ نیکوکاروں کے اعمال علیین میں ہیں
En
یقیناً یقیناً نیکو کاروں کا نامہٴ اعمال عِلِّیین میں ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ یَّشْهَدُهُ الْ٘مُقَرَّبُوْنَ۠ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوْنَ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر أنَّ كتاب الفجَّار في أسفل الأمكنة وأضيقها؛ ذكر أنَّ كتاب الأبرار في أعلاها وأوسعها وأفسحها، وأنَّ كتابهم المرقوم {يشهدُهُ المقرَّبون}: من الملائكة الكرام وأرواح الأنبياء والصِّدِّيقين والشهداء ، وينوِّه الله بذكرهم في الملأ الأعلى. وعليُّون: اسم لأعلى الجنة.