تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المطففين (83) — آیت 10

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے ۔ En
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے
En
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِیْنَ یُكَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُ٘لُّ مُعْتَدٍ اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِیْمٍ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُ٘تْ٘لٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْ٘نَ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبين}. ثم بيَّنهم بقوله: {الذين يكذِّبون بيوم الدِّين}؛ أي: يوم الجزاء، يوم يدين الله الناس فيه بأعمالهم. {وما يكذِّبُ به إلاَّ كلُّ معتدٍ}: على محارم الله متعدٍّ من الحلال إلى الحرام. {أثيمٍ}؛ أي: كثير الإثم؛ فهذا يحمله عدوانه على التكذيب، ويوجب له كبره ردَّ الحقِّ ، ولهذا {إذا تُتْلى عليه} آيات الله الدالَّة على الحقِّ وعلى صدق ما جاءت به الرسل؛ كذَّبها وعاندها وقال: هذه {أساطيرُ الأوَّلين}؛ أي: من ترَّهات المتقدِّمين وأخبار الأمم الغابرين، ليس من عند الله؛ تكبُّراً وعناداً.