تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّیْلِاِذَاعَسْعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبْحِاِذَاتَ٘نَفَّ٘سَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔