تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التكوير (81) — آیت 17

وَ الَّیۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ ﴿ۙ۱۷﴾
اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے! En
اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے
En
اور رات کی جب جانے لگے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبْحِ اِذَا تَ٘نَفَّ٘سَ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والليل إذا عسعس}؛ أي: أقبل، وقيل أَدبر ، والنهار {إذا تَنَفَّسَ}؛ أي: بدت علائم الصبح، وانشقَّ النور شيئاً فشيئاً حتى يستكمل وتطلع الشمس.