(آیت 18،17){ وَالَّيْلِاِذَاعَسْعَسَ …: ”عَسْعَسَ“} آنے اور جانے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ {”تَنَفَّسَ“} سانس لیتے ہوئے چھاتی پھیلتی ہے، صبح کی روشنی پھیلنے کی کیفیت کی نقشہ کشی انسان کے سانس لینے کی کیفیت کے ساتھ کی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اور رات کی جب اس کی تاریکی چھانے [15] لگے
[15]﴿عَسْعَسَ﴾ بمعنی دھندلکا، خواہ یہ شام کا دھندلکا ہو جیسے سورج غروب ہونے کے بعد رات کا اندھیرا چھانے لگتا ہے اور خواہ یہ صبح کا دھندلکا ہو۔ یعنی رات کی تاریکی غائب اور صبح کی روشنی اس پر غالب ہونے لگے۔ اس لحاظ سے اس آیت کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ”اور رات کی جب جانے لگے۔“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّیْلِاِذَاعَسْعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبْحِاِذَاتَ٘نَفَّ٘سَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔