تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۖۚ۵۵﴾
بے شک سب جانوروں سے برے اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، سو وہ ایمان نہیں لاتے۔ En
جانداروں میں سب سے بدتر خدا کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو کافر ہیں سو وہ ایمان نہیں لاتے
En
تمام جانداروں سے بدتر، اللہ کے نزدیک وه ہیں جو کفر کریں، پھر وه ایمان نہ ﻻئیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا ﴿ اِنَّ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هؤلاء الذين جمعوا هذه الخصالَ الثلاث - الكفر وعدم الإيمان والخيانة - بحيث لا يثبُتون على عهدٍ عاهدوه ولا قول قالوه هم {شرُّ الدوابِّ عند الله}: فهم شرٌّ من الحمير والكلاب وغيرها؛ لأنَّ الخير معدوم منهم، والشرَّ متوقَّع فيهم.