(آیت 56،55) {اِنَّشَرَّالدَّوَآبِّعِنْدَاللّٰهِ …:} اوپر کی آیت میں جب تمام کفار کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ ظالم ہیں تو اب یہاں کفار کی بعض خاص شرارتوں کا ذکر فرمایا۔ {”وَهُمْلَايَتَّقُوْنَ“} کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتے، یا وہ اپنی بد عہدی کے انجام سے نہیں ڈرتے۔ ان سے مراد خاص طور پر مدینہ منورہ کے یہودی ہیں، جن سے مدینہ منورہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے اور باہمی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت انھیں ایک نظر نہ بھاتی تھی، چنانچہ کبھی وہ اوس و خزرج کے درمیان جاہلی عصبیت ابھار کر ان کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرتے اور کبھی اسلام کے دشمنوں کی ہتھیاروں سے مدد کر کے معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو کہہ دیتے کہ ہمیں معاہدہ یاد نہیں رہا تھا، لیکن جوں ہی موقع ملتا پھر کوئی ایسی حرکت کر گزرتے جو معاہدے کے خلاف ہوتی، حتیٰ کہ اس معاہدے کے ہوتے ہوئے ان کا سردار کعب بن اشرف (جو بدر میں قریش کی شکست سے انتہائی سیخ پا ہوا تھا) مکہ پہنچا اور وہاں مقتولین کفارِ بدر کے ہیجان انگیز مرثیے پڑھ کر قریش کے نوجوانوں کو مسلمانوں سے انتقام لینے کا جوش دلاتا رہا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنھیں {”شَرَّالدَّوَآبِّ“} (بدترین جانور) فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) یہاں انھیں {”شَرَّالنَّاسِ“} (سب لوگوں سے برے) کے بجائے {”شَرَّالدَّوَآبِّ“} کہا گیا ہے، اگرچہ {”الدَّوَآبِّ“} میں انسان بھی آ جاتے ہیں، کیونکہ وہ بھی چلتے پھرتے ہیں، مگر عام طور پر یہ لفظ انسان کے بجائے جانوروں پر بولا جاتا ہے، گویا کفر کی وجہ سے یہ لوگ انسانیت کے شرف سے محروم ہو چکے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بینہ (۶)، سورۂ اعراف (۱۷۹) اور سورۂ فرقان (۴۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 شَرُّالنَّاسِ (لوگوں میں سب سے بدتر) کے بجائے انہیں شَرَّالدَّوَابِّ کہا گیا ہے۔ جو لغوی معنی کے لحاظ سے تو انسانوں اور چوپایوں وغیرہ سب پر بولا جاتا ہے۔ لیکن عام طور پر اس کا استعمال چوپایوں کے لئے ہوتا ہے۔ گویا کافروں کا تعلق انسانوں سے ہے ہی نہیں۔ کفر کا ارتکاب کرکے وہ جانور بلکہ جانوروں میں بھی سب سے بدتر جانور بن گئے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ اللہ کے ہاں بدترین [58] جانور وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کا انکار کر دیا۔ پھر وہ ایمان لانے پر تیار نہیں
[58] بدترین مخلوق کون ہے؟
بدترین اس لحاظ سے کہ انہیں عقل اور تمیز کی قوت بخشی گئی ہے جو عام جانوروں کو عطا نہیں ہوئی۔ پھر اگر یہ لوگ ان قوتوں کے باوجود حق کو سمجھنے یا دیکھنے یا سننے کی زحمت ہی گوارا نہ کریں اور نہ حق پر ایمان لانے پر آمادہ ہوں تو یہ عام جانوروں سے بدتر ٹھہرے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭
زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا ﴿ اِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّالدَّوَآبِّعِنْدَاللّٰهِ ﴾”سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں “ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هؤلاء الذين جمعوا هذه الخصالَ الثلاث - الكفر وعدم الإيمان والخيانة - بحيث لا يثبُتون على عهدٍ عاهدوه ولا قول قالوه هم {شرُّ الدوابِّ عند الله}: فهم شرٌّ من الحمير والكلاب وغيرها؛ لأنَّ الخير معدوم منهم، والشرَّ متوقَّع فيهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔