تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنفال (8) — آیت 22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
بے شک تمام جانوروں سے برے اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے ہیں، جو سمجھتے نہیں۔ En
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
En
بےشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ حق سننے سے بہرے ہیں۔ ﴿ الْبُكْمُ حق بولنے سے گونگے ہیں۔ ﴿ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔
وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {إنَّ شرَّ الدوابِّ عند الله}: مَنْ لم تُفِذْ فيهم الآيات والنذر، وهم {الصُّمُّ}: عن استماع الحق، {البكم}: عن النطق به، {الذين لا يعقلونَ}: ما ينفعهم ويؤثرونَه على ما يضرُّهم؛ فهؤلاء شرٌّ عند الله من شرار الدواب ؛ لأنَّ الله أعطاهم أسماعاً وأبصاراً وأفئدة ليستعملوها في طاعة الله، فاستعملوها في معاصيه، وعدموا بذلك الخير الكثير؛ فإنَّهم كانوا بصدد أن يكونوا من خيار البريَّة، فأبوا هذا الطريق، واختاروا لأنفسهم أن يكونوا من شرِّ البريَّة. والسمعُ الذين نفاه الله عنهم سمعُ المعنى المؤثِّر في القلب، وأما سمعُ الحجَّة؛ فقد قامت حجَّة الله تعالى عليهم بما سمعوه من آياته.