اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
بے شک تمام جانوروں سے برے اللہ کے نزدیک وہ بہرے، گونگے ہیں، جو سمجھتے نہیں۔
En
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
En
بےشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وه لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) {اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ …: ” الدَّوَآبِّ “ ”دَابَّةٌ“} کی جمع ہے، {” دَبَّ يَدِبُّ (ض)“} زمین پر چلنا۔ انسان کو {” الدَّوَآبِّ “} میں اس لیے شمار کیا کہ کتب لغہ میں ہر جاندار کو دابہ کہہ لیتے ہیں۔ مصباح میں ہے {”دَابَّةٌ“} زمین کا ہر جاندار، خواہ سمجھ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یعنی کفار و منافقین جو کان سے اچھی بات نہ سنیں، زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہ لیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جانوروں سے بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے۔ یہاں پہلے بہرے ہونے کا ذکر ہے، پھر گونگے ہونے کا، کیونکہ حق سن کر ہی اس کی تائید و تبلیغ زبان سے ہوتی ہے، پھر بے عقل ہونے کا، کیونکہ بعض بہرے اور گونگے عقل سے حق کو سمجھتے اور اسے قبول کر لیتے ہیں، مگر یہ لوگ تینوں چیزوں سے خالی ہیں۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۹) اور فرقان (۴۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 اس بات کو قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ (لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ) 7۔ الاعراف:179) ان کے دل ہیں، لیکن ان سے سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں، لیکن ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپائے کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہ لوگ (اللہ سے) بیخبر ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ یقیناً اللہ کے ہاں بدترین قسم کے جانور [21] وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کچھ کام نہیں لیتے
[21] بد ترین مخلوق کون ہیں؟
اس آیت کا مضمون سورۃ اعراف کی آیت نمبر 179 میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اعضاء سے وہ کام لینا چھوڑ دے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں تو پھر بالآخر وہ اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً آنکھیں اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کو دیکھیں، کان اس لیے کہ وہ حق بات کو سنیں اور عقل اس لیے کہ وہ آنکھ اور کان کی بہم پہنچائی ہوئی معلومات میں غور و فکر کرے۔ اب جو شخص ان اعضاء سے کام نہ لیتے ہوئے انہیں بے کار بنا دیتا ہے تو ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو برباد کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ ﴾ ”سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں “ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں۔ ﴿ الْبُكْمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں۔ ﴿ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔
یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔
وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إنَّ شرَّ الدوابِّ عند الله}: مَنْ لم تُفِذْ فيهم الآيات والنذر، وهم {الصُّمُّ}: عن استماع الحق، {البكم}: عن النطق به، {الذين لا يعقلونَ}: ما ينفعهم ويؤثرونَه على ما يضرُّهم؛ فهؤلاء شرٌّ عند الله من شرار الدواب ؛ لأنَّ الله أعطاهم أسماعاً وأبصاراً وأفئدة ليستعملوها في طاعة الله، فاستعملوها في معاصيه، وعدموا بذلك الخير الكثير؛ فإنَّهم كانوا بصدد أن يكونوا من خيار البريَّة، فأبوا هذا الطريق، واختاروا لأنفسهم أن يكونوا من شرِّ البريَّة. والسمعُ الذين نفاه الله عنهم سمعُ المعنى المؤثِّر في القلب، وأما سمعُ الحجَّة؛ فقد قامت حجَّة الله تعالى عليهم بما سمعوه من آياته.