تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَمَّامَنْخَافَمَقَامَرَبِّهٖ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّالْؔجَنَّةَ ﴾”تو بے شک جنت۔“ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِیَالْمَاْوٰى ﴾ مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأمَّا مَنْ خافَ مقامَ ربِّه}؛ أي: خاف القيام عليه ومجازاته بالعدل؛ فأثَّر هذا الخوف في قلبه، فنهى {النفس عن}: هواها الذي يصدُّها عن طاعة الله، وصار هواه تبعاً لما جاء به الرسول، وجاهد الهوى والشهوة الصادَّيْن عن الخير؛ {فإنَّ الجنَّة}: المشتملة على كلِّ خيرٍ وسرورٍ ونعيم، {هي المأوى}: لمن هذا وصفُه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔