ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 40

وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ الۡہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾
اور رہا وہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اور اس نے نفس کو خواہش سے روک لیا۔ En
اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا
En
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 39 میں تا آیت 41 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ لیکن جو اپنے پروردگار کے حضور (جوابدہی کے لیے) کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے آپ کو خواہش نفس سے روکے رکھا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی جزا سے ڈر گیا اور اس ڈر نے اس کے دل کو متاثر کیا اور اپنے نفس کو ان خواہشات سے روک لیا جو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روکتی ہیں اور اس کی خواہشات اس چیز کے تابع ہو گئیں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں اور ان خواہشات کے خلاف جدوجہد کی جو بھلائی سے روکتی ہیں۔ ﴿ فَاِنَّ الْؔجَنَّةَ تو بے شک جنت۔ جو ہر بھلائی، سرور اور نعمت پر مشتمل ہے ﴿هِیَ الْمَاْوٰى مذکورہ اوصاف کے حامل شخص کا ٹھکانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا مَنْ خافَ مقامَ ربِّه}؛ أي: خاف القيام عليه ومجازاته بالعدل؛ فأثَّر هذا الخوف في قلبه، فنهى {النفس عن}: هواها الذي يصدُّها عن طاعة الله، وصار هواه تبعاً لما جاء به الرسول، وجاهد الهوى والشهوة الصادَّيْن عن الخير؛ {فإنَّ الجنَّة}: المشتملة على كلِّ خيرٍ وسرورٍ ونعيم، {هي المأوى}: لمن هذا وصفُه.