تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النازعات (79) — آیت 10

یَقُوۡلُوۡنَ ءَاِنَّا لَمَرۡدُوۡدُوۡنَ فِی الۡحَافِرَۃِ ﴿ؕ۱۰﴾
یہ لوگ کہتے ہیں کیا بے شک ہم یقینا پہلی حالت میں لوٹائے جانے والے ہیں؟ En
(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے
En
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

منکرین قیامت دنیا کے اندر استہزا کے طور پر اور حیات بعدالموت کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِی الْحَافِرَةِ یعنی کیا مرنے کے بعد ہمیں پہلی تخلیق کی طرف لوٹایا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے، جو انتہائی تعجب اور اس کو محال سمجھنے پر مبنی ہے انھوں نے حیات بعدالموت کا انکار کیا، پھر اس کو بعید سمجھنے میں بڑھتے چلے گئے، پھر اسی پر جم گئے۔ وہ اس دنیا میں تکذیب کے طور پر کہتے ہیں ﴿ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً یعنی جب ہم بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا اس کے بعد ہمیں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹایا جائے گا؟ ﴿قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ کہتے ہیں، یہ لوٹنا خسارہ ہے۔ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جہالت اور اس کے حضور جسارت کی بنا پر اس امر کو بعید سمجھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، جب وہ بوسیدہ ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا انھیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اس امر کے بہت آسان ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی۔یعنی اس روز صور پھونکا جائے گا تب تمام خلائق ﴿بِالسَّاهِرَةِ روئے زمین پر کھڑے دیکھ رہے ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا، ان کے درمیان عدل پر مبنی فیصلے کرے گا اور ان کو جزا و سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يقولونَ} ؛ أي: الكفار في الدُّنيا على وجه التكذيب: {أإذا كُنَّا عظاماً نخرةً}؛ أي: باليةً فتاتاً، {قالوا تلك إذاً كَرَّةٌ خاسرةٌ}؛ أي: استبعدوا أن يبعثهم الله ويعيدهم بعدما كانوا عظاماً نخرةً جهلاً منهم بقدرة الله وتجرياً عليه! قال الله في بيان سهولة هذا الأمر عليه: {فإنَّما هي زجرةٌ واحدةٌ}: يُنفخ في الصور؛ فإذا الخلائقُ كلُّهم {بالسَّاهرةِ}؛ أي: على وجه الأرض قيامٌ ينظرونَ، فيجمعهم الله، ويقضي بينهم بحكمه العدل، ويجازيهم.