تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المرسلات (77) — آیت 35

ہٰذَا یَوۡمُ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾
یہ دن ہے کہ وہ نہیں بولیں گے۔ En
یہ وہ دن ہے کہ (لوگ) لب تک نہ ہلا سکیں گے
En
آج (کا دن) وه دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس عظیم دن میں، جو جھٹلانے والوں کے لیے بہت سخت ہے، وہ خوف اور سخت دہشت کی وجہ سے بول نہیں سکیں گے ﴿ وَلَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ۠ اور انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ معذرت کرسکیں۔ اگر وہ معذرت پیش کریں گے تو ان کی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ﴿ فَیَوْمَىِٕذٍ لَّا یَنْفَ٘عُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ۠ (الروم:30؍57) پس اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ان سے توبہ ہی طلب کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هذا اليوم العظيم الشَّديد على المكذِّبين، لا ينطِقون فيه من الخوف والوَجَل الشديد، {ولا يُؤْذَنُ لهم فيعتَذِرون}؛ أي: لا تُقبل معذرتُهم ولو اعتذروا. {فيومئذٍ لا ينفع الذينَ ظَلَموا معذِرَتُهم ولا هم يُسْتَعْتَبونَ}.