تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 24

فَاصۡبِرۡ لِحُکۡمِ رَبِّکَ وَ لَا تُطِعۡ مِنۡہُمۡ اٰثِمًا اَوۡ کَفُوۡرًا ﴿ۚ۲۴﴾
پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور ان میں سے کسی گناہ گار یا بہت ناشکرے کا کہنا مت مان۔ En
تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بد عمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو
En
پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری پر صبر کیجیے اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کیجیے اور اس کے حکم دینی پر صبر کیجیے اور اس پر رواں دواں رہیے اور کوئی چیز آپ کی راہ کھوٹی نہ کر سکے۔ ﴿ وَلَا تُ٘طِعْ معاندین حق کی اطاعت نہ کیجیے جو چاہتے ہیں کہ آپ کو راہ حق سے روک دیں ﴿ اٰثِمًا یعنی جو گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرنے والا ہے اور نہ (اطاعت کریں) ﴿ كَفُوْرًا كفر كرنے والے كی کیونکہ کفار، فجار اور فساق کی اطاعت حتمی طور پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے کیونکہ یہ لوگ صرف اسی چیز کا حکم دیتے ہیں جسے ان کے نفس پسند کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {فاصبر لحكم ربِّكَ ولا تُطِعْ منهم آثماً أو كفوراً}؛ أي: اصبر لحكمه القدريِّ؛ فلا تسخطه، ولحكمه الدينيِّ؛ فامض عليه، ولا يعوقَنَّك عنه عائقٌ، {ولا تطعْ}: من المعاندين الذين يريدونَ أن يَصُدُّوك {آثماً}؛ أي: فاعلاً إثماً ومعصيةً، {ولا كفوراً}: فإنَّ طاعة الكفَّار والفجَّار والفسَّاق لا بدَّ أن تكون معصيةً لله ؛ فإنَّهم لا يأمرون إلاَّ بما تهواه أنفسهم.