تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 23

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِیۡلًا ﴿ۚ۲۳﴾
یقینا ہم نے ہی تجھ پر یہ قرآن اتارا، تھوڑا تھوڑا کرکے اتارنا۔ En
اے محمد (ﷺ) ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے
En
بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْ٘قُ٘رْاٰنَ تَنْزِیْلًا ہم نے آپ پر قرآن آہستہ آہستہ اتارا ہے۔اور اس کے اندر وعد و وعید اور ہر چیز کا بیان ہے جس کے بندے محتاج ہیں۔ قرآن کریم کے اندر اللہ تعالیٰ کے اوامر و شرائع کو پوری طرح قائم کرنے، ان کے نفاذ کی کوشش کرنے اور اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بنابریں فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله تعالى لما ذكر نعيم الجنة: {إنَّا نحن نزَّلْنا عليك القرآن تنزيلاً}: فيه الوعد والوعيد وبيانُ كلِّ ما يحتاجه العباد، وفيه الأمر بالقيام بأوامره وشرائعه أتمَّ القيام والسعي في تنفيذها والصبر على ذلك.