تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 2

اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ اَمۡشَاجٍ ٭ۖ نَّبۡتَلِیۡہِ فَجَعَلۡنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۲﴾
بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔ En
ہم نے انسان کو نطفہٴ مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اسے آزمائیں تو ہم نے اس کو سنتا دیکھتا بنایا
En
بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے باپ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کی نسل کو مسلسل بنایا ﴿ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نطفۂ مخلوط سے یعنی حقیر اور گندے پانی سے بنایا ﴿ نَّبْتَلِیْهِ ہم اس کے ذریعے سے اس کو آزماتے ہیں تاکہ ہم جان لیں کہ آیا وہ اپنی پہلی حالت کو چشم بصیرت سے دیکھ اور اس کو سمجھ سکتا ہے یا اس کو بھول جاتا ہے۔ اور اس کو اس کے نفس نے فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا، اس کے ظاہر اور باطنی قویٰ، مثلاً: کان، آنکھیں اور دیگر اعضاء تخلیق کیے، ان قویٰ کو اس کے لیے مکمل کیا، ان کو صحیح سالم بنایا تاکہ ان قویٰ کے ذریعے سے اپنے مقاصد کے حصول پر قادر ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثمَّ لمَّا أراد خلقه؛ خلق أباه آدم من طين، ثم جعل نسله متسلسلاً {من نطفةٍ أمشاج}؛ أي: ماء مَهينٍ مستقذرٍ، {نبتليه}: بذلك؛ لنعلم هل يرى حاله الأولى ويتفطن لها أم ينساها وتغرُّه نفسه؟ فأنشأه الله وخَلَقَ له القُوى الظاهرة والباطنة ؛ كالسمع والبصر وسائر الأعضاء، فأتمَّها له وجعلها سالمةً يتمكَّن بها من تحصيل مقاصده.