تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 1

ہَلۡ اَتٰی عَلَی الۡاِنۡسَانِ حِیۡنٌ مِّنَ الدَّہۡرِ لَمۡ یَکُنۡ شَیۡئًا مَّذۡکُوۡرًا ﴿۱﴾
کیا انسان پر زمانے میں سے کوئی ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا (کہیں) ذکر ہوا ہو؟ En
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
En
یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے ابتدائی، اس کے انتہائی اور اس کے متوسط احوال بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرمایا کہ اس پر ایک طویل زمانہ گزرا ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جو اس کے وجود میں آنے سے پہلے تھا اور وہ ابھی پردۂ عدم میں تھا بلکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله في هذه السورة أول حال الإنسان ومنتهاها ومتوسِّطها: فذكر أنَّه مرَّ عليه دهرٌ طويلٌ، وهو الذي قبل وجوده، وهو معدوم، بل ليس مذكوراً.