تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوْهٌیَّوْمَىِٕذٍۭؔبَ٘اسِرَةٌ﴾”اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔“ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُ٘نُّاَنْیُّفْعَلَبِهَافَاقِرَةٌ﴾”خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔“ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و] {وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفْعَلَ بها فاقرةٌ}؛ أي: عقوبةٌ شديدةٌ وعذابٌ أليمٌ؛ فلذلك تغيَّرت وجوههم وعبست.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔