ترجمہ و تفسیر — سورۃ القيامة (75) — آیت 24

وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍۭ بَاسِرَۃٌ ﴿ۙ۲۴﴾
اور کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔ En
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
En
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25،24) {وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌ …: بَاسِرَةٌ بَسَرَ يَبْسُرُ بُسُوْرًا} (ن) تیوری چڑھانا، منہ بگاڑنا۔{ فَاقِرَةٌ } وہ سختی جو کمر توڑ دے۔ یہ {فَقَرَاتُ الظَّهْرِِ} سے نکلا ہے جس کے معنی پیٹھ کے مہرے ہیں۔ کہا جاتا ہے: {فَقَرْتُ الرَّجُلَ} میں نے اس آدمی کی پیٹھ کے مہرے توڑ دیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24۔ 1 یہ کافروں کے چہرے ہونگے سیاہ اور بےرونق۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ اور کئی چہرے اس دن پریشان ہوں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دینے والوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَوُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍۭؔ بَ٘اسِرَةٌ اس دن کئی چہرے اداس ہوں گے۔ یعنی ترش رو، گرد سے اٹے ہوئے، سہمے ہوئے اور ذلیل ہوں گے۔ ﴿ تَظُ٘نُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے۔ یعنی سخت عقوبت اور درد ناک عذاب، اسی وجہ سے ان کے چہرے متغیر اور چیں بہ جبیں ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال في المؤثرين العاجلة على الآجلة، [و] {وجوهٌ يومئذٍ باسرةٌ}؛ أي: معبسةٌ كدرةٌ خاشعةٌ ذليلةٌ، {تظنُّ أن يُفْعَلَ بها فاقرةٌ}؛ أي: عقوبةٌ شديدةٌ وعذابٌ أليمٌ؛ فلذلك تغيَّرت وجوههم وعبست.