تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القيامة (75) — آیت 16

لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾
تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلے۔ En
اور (اے محمدﷺ) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو
En
(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آتے اور تلاوت شروع کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حصول قرآن کی شدید) حرص کی بنا پر، حضرت جبریل علیہ السلام کے فارغ ہونے سے پہلے ہی، جلدی سے جبریل علیہ السلام کی تلاوت کے ساتھ ساتھ تلاوت کرنا شروع کر دیتے، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا، اور فرمایا: ﴿وَلَا تَعْجَلْ بِالْ٘قُ٘رْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّ٘قْ٘ضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ (طٰہ:ٰ 20؍114)اور قرآن جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کریں۔ یہاں فرمایا: ﴿ لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ وحی کے پڑھنے کے لیے اپنے زبان جلدی نہ چلایا کریں کہ اسے جلد یاد کرلو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ضمانت دی کہ آپ ضرور اس کو حفظ کر لیں گے اور اس کو پڑھ سکیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو آپ کے سینے میں جمع کر دے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَقُ٘رْاٰنَهٗ اس كا جمع كرنا اور (آپ كی زبان سے) پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی آپ کے دل میں حصول قرآن کی جو خواہش ہے، اس کا داعی، قرآن کے رہ جانے اور اس کے نسیان کا خوف ہےتو اللہ تعالیٰ نے اس کے حفظ کی ضمانت عطا کر دی، اس لیے اب ساتھ ساتھ پڑھنے کا کوئی موجب نہیں۔ ﴿ فَاِذَا قَ٘رَاْنٰهُ فَاتَّ٘بِـعْ قُ٘رْاٰنَهٗ یعنی جبریل علیہ السلام قرآن کی قراء ت مکمل کر لیں جو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے، تب اس وقت جبریل نے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے اس کی اتباع کیجیے اور قرآن کو پڑھیے۔ ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَهٗ یعنی اس کے معانی کا بیان ہمارے ذمے ہے، پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کے الفاظ اور معانی، دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اور یہ حفاظت کا بلند ترین درجہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے ادب کے لیے اس پر عمل کیا، لہٰذا اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام آپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تو آپ خاموش رہتےا ور جب جبریل علیہ السلام قر اء ت سے فارغ ہو جاتے تو پھر آپ پڑھتے۔
اس آیت کریمہ میں علم حاصل کرنے کے لیے ادب سکھایا گیا ہے کہ معلم نے جس مسئلہ کو شروع کیا ہو، اس سے معلم کے فارغ ہونے سے پہلےطالب علم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ جب وہ اس مسئلہ سے فارغ ہو جائے تو پھر طالب علم کو جو اشکال ہو اس کے بارے میں معلم سے سوال کرے۔اور اسی طرح جب کلام کی ابتدا میں کوئی ایسی چیز ہو جس کو رد کرنا واجب ہو یا کوئی ایسی چیز جو مستحسن ہو، تو اس کلام سے فارغ ہونے سے قبل اس کو رد یا قبول کرنے میں جلدی نہ کرے تاکہ اس میں جو حق یا باطل ہے وہ اچھی طرح واضح ہو جائے اور اسے اچھی طرح سمجھ لے تاکہ اس میں صواب کے پہلو سے کلام کر سکے۔
ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سامنے جس طرح قرآن کے الفاظ کو بیان فرمایا، اسی طرح آپ نے اس کے معانی کو بھی ان کے سامنے بیان فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال: {ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعْجَلَ به}.

ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال: {إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعْ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ إنَّ علينا بيانه}؛ أي: بيان معانيه. فوعده بحفظ لفظه وحفظ معانيه، وهذا أعلى ما يكون، فامتثل - صلى الله عليه وسلم - لأدب ربِّه، فكان إذا تلا عليه جبريلُ القرآن بعد هذا؛ أنصتَ له؛ فإذا فرغ؛ قرأه.

وفي هذه الآية أدبٌ لأخذ العلم: أن لا يبادر المتعلِّم للعلم قبل أن يفرغ المعلِّم من المسألة التي شرع فيها؛ فإذا فرغ منها؛ سأله عمَّا أشكل عليه. وكذلك إذا كان في أول الكلام ما يوجب الردَّ أو الاستحسان أن لا يبادِرَ بردِّه أو قَبوله قبل الفراغ من ذلك الكلام؛ ليتبيَّن ما فيه من حقٍّ أو باطل، وليفهمه فهماً يتمكَّن فيه من الكلام فيه على وجه الصواب. وفيها أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كما بيَّن للأمَّة ألفاظ الوحي؛ فإنَّه قد بيَّن لهم معانيه.