تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ “} سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی وضاحت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے اور یہ وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے فرمائی ہے، جو حدیث و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا تو اس کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور فرمان کے ساتھ کر دی کہ نمازوں کے اوقات کیا ہیں اور نمازیں کتنی ہیں۔ ان کی رکعات، قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی ترتیب اور ان میں پڑھے جانے والے اذکار، غرض یہ سب کچھ قرآن کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ» [النحل: ۴۴] ”اور (اے رسول!) ہم نے تیری طرف یہ ذکر نازل کیاہے، تاکہ تو لوگوں کے لیے اس (ذکر) کی وضاحت اور تشریح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔“ معلوم ہوا کہ حدیث قرآن ہی کا بیان ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن پر عمل کرنا واجب ہے۔
➌ {” فَاِذَا قَرَاْنٰهُ “} (جب ہم اسے پڑھیں) سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل علیہ السلام پڑھ رہے ہوں، کیونکہ ان کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اس لیے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف فرمائی۔
➍ سورت کے شروع میں منکرین حشر اور منکرین قیامت کا ذکر ہے، سورت کے آخر میں بھی یہی ذکر ہے، درمیان میں یہ آیات ہیں جن کا بظاہر ماقبل اور ما بعد سے کوئی ربط نہیں۔ اس لیے بعض شیعہ مفسرین نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس سورت میں کچھ آیات رہ گئی ہیں، مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ اس کا رد خود ان آیات میں موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا اللہ کے ذمے ہے، پھر اس میں سے آیات کس طرح رہ سکتی ہیں؟ اور یہ بات بھی صحیح سندوں سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی یہ ترتیب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت میں کئی سورتیں نازل ہو رہی ہوتی تھیں، جب کوئی چیز نازل ہوتی تو آپ کسی وحی لکھنے والے کو بلا کر فرماتے کہ یہ آیات اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے اور جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو فرماتے اسے اس سورت میں لکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے۔ [ترمذي، التفسیر، باب سورۃ التوبۃ: ۳۰۸۶] ابو داؤد، نسائی، مسنداحمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان آیات کا ربط ما قبل اور ما بعد کے ساتھ بنانے کی کوشش کی ہے مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کے بعد جو بہترین سندوں کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل فرمائی ہے، خود ساختہ ربط کی تکلیف اٹھانا سراسر تکلف ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے وقت اور سورۂ طٰہٰ کی آیت (۱۱۴): «وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰۤى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ» نازل ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے ساتھ پڑھنے کا موقع پیش آیا اور اس وقت ممانعت کا یہ حکم نازل ہوا اور اس مقام پر قرآن میں لکھ دیا گیا۔ اس کی مثال ایسے ہی سمجھیں جیسے کوئی استاذ شاگرد کو کوئی چیز پڑھا رہا ہو اور درمیان میں اس کی کسی حرکت کی اصلاح کے لیے کہے” ایسا مت کرو“ اور پہلا سلسلہ کلام جاری کر دے تو ٹیپ ریکارڈر میں یہ بات بھی ریکارڈ ہو جائے گی اور لفظ بلفظ تحریر میں بھی اسی طرح نقل ہو گی۔ درمیان میں آنے والی اس بات کا معنوی ربط و تعلق ما قبل و ما بعد سے جوڑنا تکلف ہو گا، مگر اس بات کو بے محل نہیں کہہ سکتے، یقینا اس موقع پر یہی بات ضروری تھی اور یہ بھی ربط کی ایک صورت ہے کہ موقع و محل کے تقاضے سے یہ الفاظ درمیان میں آگئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ۱؎ [20-طه:114] یعنی ’ جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا جاءه جبريلُ بالوحي وشرع في تلاوته [عليه]؛ بادَرَهُ النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - من الحرص قبل أن يفرغ، وتلاه مع تلاوة جبريل إيَّاه ، فنهاه الله عن ذلك، وقال: {ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه}: وقال هنا: {لا تُحرِّكَ به لسَانَكَ لِتَعْجَلَ به}.
ثم ضمن له تعالى أنَّه لا بدَّ أن يحفظَه ويقرأه ويجمعه الله في صدره، فقال: {إنَّ علينا جمعَه وقرآنَه}؛ فالحرص الذي في خاطرك إنَّما الداعي له حذر الفوات والنسيان؛ فإذا ضَمِنَه الله لك؛ فلا موجب لذلك، {فإذا قَرَأناه فاتَّبِعْ قرآنه}؛ أي: إذا أكمل جبريلُ ما يوحى إليك ؛ فحينئذٍ اتَّبع ما قرأه فاقرأه ، {ثمَّ إنَّ علينا بيانه}؛ أي: بيان معانيه. فوعده بحفظ لفظه وحفظ معانيه، وهذا أعلى ما يكون، فامتثل - صلى الله عليه وسلم - لأدب ربِّه، فكان إذا تلا عليه جبريلُ القرآن بعد هذا؛ أنصتَ له؛ فإذا فرغ؛ قرأه.
وفي هذه الآية أدبٌ لأخذ العلم: أن لا يبادر المتعلِّم للعلم قبل أن يفرغ المعلِّم من المسألة التي شرع فيها؛ فإذا فرغ منها؛ سأله عمَّا أشكل عليه. وكذلك إذا كان في أول الكلام ما يوجب الردَّ أو الاستحسان أن لا يبادِرَ بردِّه أو قَبوله قبل الفراغ من ذلك الكلام؛ ليتبيَّن ما فيه من حقٍّ أو باطل، وليفهمه فهماً يتمكَّن فيه من الكلام فيه على وجه الصواب. وفيها أنَّ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - كما بيَّن للأمَّة ألفاظ الوحي؛ فإنَّه قد بيَّن لهم معانيه.