بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا جو تم پر گواہی دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا۔
En
(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسیٰ کو) پیغمبر (بنا کر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس بھی (محمدﷺ) رسول بھیجے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہوں گے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نبئ امی و عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے جانے پر... جو خوشخبری دینے والا، تنبیہ کرنے والا اور امت پر ان کے اعمال کے ذریعے سے گواہ ہے ... اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرو، اس کا شکر ادا کرو اور اس نعمت جلیلہ کا اعتراف کرو۔ اپنے رسول کا انکار کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم فرعون کی مانند ہو جاؤ، جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی طرف مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور اسے توحید کا حکم دیا مگر اس نے حضرت موسیٰ کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے برعکس اس نے آپ کی۔ نافرمانی کی پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑے وبال، یعنی انتہائی شدت کے ساتھ پکڑ لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: احْمَدوا ربَّكم على إرسال هذا النبيِّ الأميِّ العربيِّ البشير النذير الشاهد على الأمَّة بأعمالهم، واشكروه، وقوموا بهذه النِّعمة الجليلة، وإيَّاكم أن تَكْفُروا، فتَعْصوا رسولكم، فتكونوا كفرعون حين أرسل الله إليه موسى بن عمران، فدعاه إلى الله، وأمره بالتَّوحيد، فلم يصدِّقْه، بل عصاه، فأخذه الله {أخذاً وبيلاً}؛ أي: شديداً بليغاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔