تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المزمل (73) — آیت 14

یَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَ الۡجِبَالُ وَ کَانَتِ الۡجِبَالُ کَثِیۡبًا مَّہِیۡلًا ﴿۱۴﴾
جس دن زمین اور پہاڑ کانپیں گے اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔ En
جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھر بھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں
En
جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرا جائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ﴿ وَكَانَتِ الْجِبَالُ اور زمین پرمضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ﴿کَثِیْبًا مَّہِیْلًا ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك {يوم ترجُفُ الأرضُ والجبالُ}: من الهول العظيم، فكانتِ {الجبالُ}: الراسياتُ الصمُّ الصلابُ {كثيباً مَهيلاً}؛ أي: بمنزلة الرمل المنهال المنتثر، ثم إنها تُبَسُّ بعد ذلك فتكون كالهباء المنثور.