تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ یَوْمَتَرْجُفُالْاَرْضُوَالْجِبَالُ﴾ جس روز زمین اور پہاڑ بہت بڑے خوف سے کانپ اٹھیں گے ﴿ وَكَانَتِالْجِبَالُ﴾ اور زمین پرمضبوطی سے جمے ہوئے ٹھوس اور سخت پہاڑ ﴿کَثِیْبًامَّہِیْلًا﴾ ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، یعنی بکھری ہوئی ریت کی مانند، پھر اس کے بعد یہ ریت آہستہ آہستہ پھیل کر اڑتا ہوا غبار بن جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وذلك {يوم ترجُفُ الأرضُ والجبالُ}: من الهول العظيم، فكانتِ {الجبالُ}: الراسياتُ الصمُّ الصلابُ {كثيباً مَهيلاً}؛ أي: بمنزلة الرمل المنهال المنتثر، ثم إنها تُبَسُّ بعد ذلك فتكون كالهباء المنثور.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔