تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ الْ٘مُزَّمِّلُ﴾ کا معنی بھی ﴿الْمُدَّثِّ٘رُ﴾ کی طرح کپڑوں میں لپٹنے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رسالت کے ذریعے سے اکرام بخشا اور حضرت جبریل علیہ السلام کو آپ کی طرف بھیج کر وحی نازل کرنے کی ابتدا کی تو اس وقت آپ اس وصف سے موصوف تھے۔ آپ نے ایک ایسا معاملہ دیکھا کہ اس جیسا معاملہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور اس پر رسولوں کے سوا کوئی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔
آپ کے پاس جبریل آئے اور کہا ”پڑھیے!“ آپ نے فرمایا: ”میں پڑھ نہیں سکتا“ جبریل نے آپ کو خوب بھینچا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی، جبریل آپ کو بار بار پڑھنے کی مشق کرواتے رہے تو بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا، یہ وحی و تنزیل کا پہلا موقع اور ایک نیا تجربہ تھا، اس سے آپ پر گھبراہٹ طاری ہو گئی، آپ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لائے تو آپ پر کپکپی طاری تھی۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات سے بہرہ ور کیا اور آپ پر پے در پے وحی نازل ہوئی حتیٰ کہ آپ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی رسول نہیں پہنچ سکا۔ (سُبْحَانَ اللہ!) وحی کی ابتدا اور اس کی انتہا کے مابین کتنا بڑا تفاوت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس وصف کے ساتھ مخاطب فرمایا جو آپ میں ابتدا کے وقت پایا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کو ان عبادات کا حکم دیا جو آپ سے متعلق تھیں، پھر آپ کو اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اس کے حکم کو کھلم کھلا بیان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کا اعلان کر دیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو افضل ترین عبادت، نماز کو موکد ترین اور بہترین وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا اور وہ ہے تہجد کی نماز۔
یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو تمام رات قیام کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا:﴿ قُمِالَّیْلَاِلَّاقَلِیْلًا﴾”رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی رات۔“پھر اس کا اندازہ مقرر کر دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿نِّصْفَهٗۤاَوِانْقُ٘صْمِنْهُ﴾ نصف رات یا نصف میں سے ﴿قَلِیْلًا﴾ کچھ کم کر دیجیے، ایک تہائی کے لگ بھگ ہو ﴿اَوْزِدْعَلَیْهِ﴾ یا نصف سے کچھ زیادہ، یعنی دو تہائی رات کے لگ بھگ ہو۔ ﴿وَرَتِّلِالْ٘قُ٘رْاٰنَتَرْتِیْلًا﴾”اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔“ کیونکہ ترتیلِ قرآن سے تدبر اور تفکر حاصل ہوتا ہے، اس سے دلوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، اس کی آیات کے ساتھ تعبُّد حاصل ہوتا ہے اور اس پر عمل کے لیے مکمل استعداد اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
کیونکہ فرمایا: ﴿اِنَّاسَنُلْ٘قِیْعَلَیْكَقَوْلًاثَقِیْلًا﴾ یعنی ہم آپ کی طرف یہ بھاری قرآن وحی کریں گے، یعنی وہ معانئ عظیمہ اور اوصاف جلیلہ کا حامل ہے۔ قرآن، جس کا وصف یہ ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے تیاری کی جائے، اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے اور جن مضامین پر مشتمل ہے ان میں غورو فکر کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المزَّمِّل: المتغطي بثيابه كالمدَّثِّر، وهذا الوصف حصل من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حين أكرمه الله برسالته، وابتدأه بإنزال وحيه بإرسال جبريل إليه ، فرأى أمراً لم يَرَ مثلَه ولا يقدِرُ على الثَّبات عليه إلاَّ المرسلون، فاعتراه عند ذلك - انزعاجٌ، حين رأى جبريلَ عليه السلام، فأتى إلى أهله، فقال: «زمِّلوني زمِّلوني»، وهو ترعَدُ فرائصُه، ثم جاءه جبريلُ، فقال: اقرأ. فقال: «ما أنا بقارئٍ». فغطه حتَّى بلغ منه الجهدَ، وهو يعالجه على القراءة، فقرأ - صلى الله عليه وسلم -.
ثم ألقى الله عليه الثباتَ، وتابع عليه الوحيَ، حتى بَلَغَ مَبْلَغاً ما بَلَغَه أحدٌ من المرسلين؛ فسبحان الله ما أعظم التفاوت بين ابتداء نبوَّته ونهايتها! ولهذا خاطبه الله بهذا الوصف الذي وُجِدَ منه في أول أمره، فأمره هنا بالعباداتِ المتعلِّقة به، ثم أمره بالصبر على أذيَّة قومه ، ثم أمر بالصَّدْع بأمره وإعلان دعوتهم إلى الله، فأمره هنا بأشرف العبادات، وهي الصلاة، وبآكدِ الأوقات وأفضلها، وهو قيامُ الليل. ومن رحمته [تعالى] أنَّه لم يأمرْه بقيام الليل كلِّه، بل قال: {قم الليلَ إلاَّ قليلاً}. ثم قدَّر ذلك فقال: {نصفَه أو انقُصْ منه}؛ أي: من النصف {قليلاً}: بأن يكون الثلث ونحوه، {أو زِدْ عليه}؛ أي: على النصف، فيكون نحو الثلثين ، {ورتِّل القرآن ترتيلاً}؛ فإنَّ ترتيلَ القرآن به يحصُلُ التدبُّر والتفكُّر وتحريك القلوب به والتعبُّد بآياته والتهيُّؤ والاستعداد التامُّ له؛ فإنَّه قال: {إنَّا سنُلقي عليك قولاً ثقيلاً}؛ أي: نوحي إليك هذا القرآن الثقيل؛ أي: العظيمة معانيه، الجليلة أوصافه، وما كان بهذا الوصف حقيقٌ أن يُتَهَيَّأ له ويُرَتَّل ويُتَفَكَّر فيما يشتمل عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔