تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجن (72) — آیت 8

وَّ اَنَّا لَمَسۡنَا السَّمَآءَ فَوَجَدۡنٰہَا مُلِئَتۡ حَرَسًا شَدِیۡدًا وَّ شُہُبًا ۙ﴿۸﴾
اور یہ کہ بے شک ہم نے آسمان کو ہاتھ لگایا تو ہم نے اسے اس حال میں پایا کہ وہ سخت پہرے اور چمکدار شعلوں سے بھر دیا گیا ہے۔ En
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے سے بھرا پایا
En
اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پر پایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَؔ یعنی جب ہم آسمان پر آئے اور وہاں کے حالات کی خبر لی ﴿ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا تو ہم نے بھرا ہوا پایا اس کو مضبوط چوکیدار سے۔ یعنی اس کے کناروں تک پہنچنے اور اس کے قریب آنے سے، اس کی حفاظت کی گئی تھی ﴿ وَّشُهُبًا اور انگاروں سے۔ ان شہابوں (انگاروں) کو ان (جنات) پر پھینکا جاتا ہے، جو آسمانوں کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہماری پہلی عادت کے برعکس ہے، کیونکہ پہلے ہمارے لیے آسمان کی خبروں تک رسائی ممکن تھی۔ ﴿ وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ اس سے پہلے ہم سن گن لینےکے لیے آسمان کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتےتھے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے ﴿ فَ٘مَنْ یَّ٘سْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابً٘ا رَّصَدًااب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتاہے تو شہاب کو تیار پاتا ہے، یعنی اس کی گھات لگائے ہوئے، اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، اس کا معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے۔ انھیں قطعی طور پر یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس لیے انھوں نے کہا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنَّا لمسنا السماءَ}؛ أي: أتيناها واختبرناها، {فوجَدْناها مُلِئَتْ حرساً شديداً}: عن الوصول إلى أرجائها والدنوِّ منها، {وشُهُباً}: يرمى بها من استرقَ السمعَ، وهذا مخالفٌ لعادتنا الأولى؛ فإنَّا كنَّا نتمكَّن من الوصول إلى خبر السماء فإنا {كنَّا نقعدُ منها مقاعدَ للسمع}: فنتلقَّف من أخبار السماء ما شاء الله، {فمن يستمِع الآنَ يَجِدْ له شهاباً رصداً}؛ أي: مرصداً له معدًّا لإتلافه وإحراقه؛ أي: وهذا له شأنٌ عظيمٌ ونبأٌ جسيمٌ، وجزموا أنَّ الله تعالى أراد أن يحدِثَ في الأرض حادثاً كبيراً من خيرٍ أو شرٍّ؛ فلهذا قالوا: