تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 8

ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾
پھر بے شک میں نے انھیں بلند آواز سے دعوت دی۔ En
پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا
En
پھر میں نے انہیں بﺂواز بلند بلایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا پھر میں ان کو کھلے طور بلاتا رہا۔ یعنی میں ان سب کو سنا کر دعوت دیتا رہا ﴿ ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَاَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا اورظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیر خواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے، جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم إنِّي دعوتُهم جهاراً}؛ أي: بمسمع منهم كلهم، {ثم إنِّي أعلنتُ لهم وأسررتُ لهم إسراراً}: كل هذا حرصٌ ونصحٌ، وإتيانهم بكلِّ طريق يظنُّ به حصول المقصود.