تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّاِنِّیْدَعَوْتُهُمْجِهَارًا﴾”پھر میں ان کو کھلے طور بلاتا رہا۔“ یعنی میں ان سب کو سنا کر دعوت دیتا رہا ﴿ ثُمَّاِنِّیْۤاَعْلَنْتُلَهُمْوَاَسْرَرْتُلَهُمْاِسْرَارًا﴾”اورظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔“ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیر خواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے، جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم إنِّي دعوتُهم جهاراً}؛ أي: بمسمع منهم كلهم، {ثم إنِّي أعلنتُ لهم وأسررتُ لهم إسراراً}: كل هذا حرصٌ ونصحٌ، وإتيانهم بكلِّ طريق يظنُّ به حصول المقصود.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔