(آیت 9،8) {ثُمَّاِنِّيْدَعَوْتُهُمْجِهَارًا …:} جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انھیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انھیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انھیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جا سکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ پھر میں نے انہیں برملا دعوت دی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ ثُمَّاِنِّیْدَعَوْتُهُمْجِهَارًا﴾”پھر میں ان کو کھلے طور بلاتا رہا۔“ یعنی میں ان سب کو سنا کر دعوت دیتا رہا ﴿ ثُمَّاِنِّیْۤاَعْلَنْتُلَهُمْوَاَسْرَرْتُلَهُمْاِسْرَارًا﴾”اورظاہر اور پوشیدہ، ہر طرح سمجھاتا رہا۔“ یہ سب ان کے ایمان لانے کی حرص اور ان کی خیر خواہی ہے اور ان پر ہر اس طریقے کا استعمال ہے، جس کے ذریعے سے مقصد کے حصول کا گمان ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم إنِّي دعوتُهم جهاراً}؛ أي: بمسمع منهم كلهم، {ثم إنِّي أعلنتُ لهم وأسررتُ لهم إسراراً}: كل هذا حرصٌ ونصحٌ، وإتيانهم بكلِّ طريق يظنُّ به حصول المقصود.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔