تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ نوح (71) — آیت 26

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا ﴿۲۶﴾
اور نوح نے کہااے میرے رب! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔ En
اور (پھر) نوحؑ نے (یہ) دعا کی کہ میرے پروردگار اگر کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے
En
اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے واﻻ نہ چھوڑ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْ٘كٰفِرِیْنَ دَیَّارًؔا نوح علیہ السلام نے دعا کی، میرے رب! کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ جو روئے زمین پر گھومتا پھرتا رہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کا سبب بھی ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًؔا اگر تو ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی ناشکرگزار ہوگی۔ یعنی ان کا باقی رہنا، خود ان کے لیے اور دوسروں کے لیے محض فساد کا باعث ہو گا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے یہ بات اس لیے کہی تھی کیونکہ ان کے ساتھ کثرت اختلاط اور ان کے اخلاق سے واسطہ ہونے کی بنا پر آپ کو ان کے اعمال کا نتیجہ معلوم تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی، پس اللہ نے ان سب کو غرق کر دیا اور حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھ جو اہل ایمان تھے ان سب کو بچا لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال نوحٌ ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين ديَّاراً}: يدور على وجه الأرض. وذكر السبب في ذلك، فقال: {إنَّك إن تَذَرْهُم يُضِلُّوا عبادك ولا يَلِدوا إلاَّ فاجراً كفَّاراً}؛ أي: بقاؤهم مفسدةٌ محضةٌ لهم ولغيرهم، وإنَّما قال نوحٌ ذلك؛ لأنَّه مع كثرة مخالطته إيَّاهم ومزاولته لأخلاقهم؛ علم بذلك نتيجة أعمالهم؛ فلهذا استجاب الله له دعوته فأغرقهم أجمعين، ونجَّى نوحاً ومن معه من المؤمنين.