تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیاوی اور اخروی عذاب اور عقوبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِمَّاخَطِیْٓــٰٔتِهِمْ۠اُغْ٘رِقُوْا﴾”وہ اپنے گناہوں کے سبب غرق کردیے گئے۔“ سمندر کی مانند سیلاب میں غرق کر دیے گئے جس نے ان کو گھیر لیا تھا۔ ﴿ فَاُدْخِلُوْانَارًا﴾”پس وہ آگ میں ڈال دیے گئے۔“ ان کے اجساد پانی میں چلے گئے اور ارواح آگے کے حوالے کر دی گئیں۔ یہ سب کچھ ان کے گناہوں کے سبب سے تھا جن کے بارے میں ان کا نبی نوح علیہ السلام آ کر انھیں متنبہ کرتا رہا، ان کے گناہوں کی نحوست اور ان کے برے انجام سے آگاہ کرتا رہا۔ ان کے نبی نے جو کچھ کہا، انھوں نے اس کو دور پھینک دیا، یہاں تک کہ ان پر عذاب نازل ہو گیا۔ ﴿ فَلَمْیَجِدُوْالَهُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِاَنْصَارًؔا﴾ پس انھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار نہ ملے جو ان کی اس وقت مدد کرتے جب ان پر عذاب نازل ہوا اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہی کا مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا ذكر الله عذابَهم وعقوبتهم الدنيويَّة والأخرويَّة، فقال: {ممَّا خطيئاتِهِم أغْرِقوا}: في اليمِّ الذي أحاط بهم، {فأدْخِلوا ناراً}: فذهبت أجسادُهم في الغرق وأرواحُهم للنار والحرق. وهذا كلُّه بسبب خطيئاتهم التي أتاهم نبيُّهم [نوح] ينذِرُهم عنها ويخبِرُهم بشؤمها ومغبَّتها، فرفضوا ما قال، حتى حلَّ بهم النَّكال، {فلم يجِدوا لهم من دونِ الله أنصاراً}: ينصُرونهم حين نزل بهم الأمرُ الأمرُّ، ولا أحد يقدر يعارِضُ القضاء والقدر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔